Showing posts with label Pakistani politics. Show all posts
Showing posts with label Pakistani politics. Show all posts

Tuesday, October 28, 2014

My Political Affiliations - میری سیاسی وابستگی کا سفر


مجھےآپ لوٹا کہہ سکتے ہیں جب سکول میں آٹھویں کلاس میں پہنچے تو بے نظیر کے دیوانے تھے اور جیے بھٹو کا ورد کرتے تھے تھوڑا سا شعور آیا تو میاں صاحب کے میگا پروجیکٹس نے ان کی طرف مایل کیا کیونکہ انکے دور میں سرمایہ کاری کا طوفان سا بپا ہوگیا تھا اور ہر طرف ڈویلپمنٹ نظر آ رہی تھی لہزا یہی بہتر لگا کہ مسلم لیگ نواز اچھی جماعت ہے 

اسکے بعد مشرف نے جمپ ماری اور احتساب احتساب کا نعرہ تھا اور ایک شوروغوغا مچا ہوا تھا ہر چور کو الٹا لٹکانے کی باتیں ہو رہیں تھی مگر ایک فون کال پر جس طرح وہ لیٹا امریکہ کے آگے اس سے نفرت بھی اتنی ہی شدید ہو گیی - ایسے میں عمران خان کے انصاف کے نعرے لگنا شروع ہویے تو اس  پر جھوم اٹھے اور دو سو زیادہ کالم اس کے عقیدت میں لکھ ڈالے اور اس وقت لوگوں سے لڑے جب لوگ کہتے تھے کہ اسکو تو اپنی سیٹ ہی مل جایےتو غنیمت جاننا اور میں کہتا تھا تم لوگ تبدیلی نہیں چاہتے تم چاہتے ہو کہ پاکستان انہی نکمے اور چوروں کے ہاتھ میں ہی رہے مگر پھر عمران خان نے ہیلا یوٹرن لیا اور مشرف کی باقیات نے تحریک انصاف جواین کرنا شروع کر دیا اور عمران نے ان کو ویلکم کرنا شروع کر دیا - میں نے اسلام آباد میں پارٹی میٹنگ میں اس وقت اجتجاج کیا اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا یہ کویی دو سال الیکشنز سے ہیلے کی بات ہے جب لوگ پارٹی کی طرف بھاگ رہے تھے ہم الوداع کہر رہے تھے یہ کہتے ہویے کہ وہی چور، وہی کرپٹ، وہی مفاد پرست، وہی موقع پرست، وہی وڈیرے، وہی جاگیردار اور وہی بدمعاش جو پی پی پی، ایم کیو ایم، قاف لیگ اور نون لیگ میں تھے آج عمران خان کے بھی ساتھی ہو گیے

 اور پھر میری ملاقات ہویی میاں اسلم صاحب سے جو کہ جماعت اسلامی کے امیدوار تھے حلقہ این اے 48 یعنی میرے حلقے سے ان کی شخصیت نے متاثر کیا اور پھر جماعت کے ساتھیوں سے میل جول ہوا تو سمجھ آیی کے جمہوریت کہتے کسے ہیں جہاں ہر چھوٹے بڑے کی بات کو پورے انہماک سے سنا جاتا ہے اور اس کے شکوے شکایت کو بھی دور کیا جاتا ہے جہاں نظم وضبظ اور تنظیم سکھایی جاتی ہے جہاں زمہ داری کا احساس آپ کے اندر ابھارا جاتا ہے جہاں خدمت کو شعار اور محنت کو پیمانہ کہا جاتا ہے جہاں تقوی اور دامن کی شفافیت پر آپ کا رتبہ اور درجات بڑھتے ہیں - سو آج کے دن میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے مگر آج سوچتا ہوں کہ "کاش میں نے یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا ہوتا" خیر دیر آید درست آید 

پاکستان میں سیاسی انتہا پسندی اپنے عروج پر - Pakistan's Political Dimensions

پاکستان میں صرف 3 ہی طرح کے لوگوں کا قبضہ ہے
 ایک وہ جو شخصیت پرستی کے قایل ہیں اور وہ اپنے اس فعل میں انتہا پر ہیں اور کسی دوسرے کی بات سننے کے بھی روادار نہیں اور اپنی پسندیدہ شخصیت کے ہر جایز اور ناجایز عمل کو بھی جھوٹ اور لفاظی کے زریعے سچا اور جایز ثابت کرنے کی لا حاصل مگر گناہ سے بھرپور سعی کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہر کسی نے اپنی اور صرف اپنی قبر میں جانا ہے اور جس شخصیت کی خاطر وہ اپنا آج اپنی کل [آخرت] کی خاطر  تیاگ رہے ہیں وہ ان کے کسی کام نہیں آنا بلکہ
روز محشر وہ صاف مکر جایے گا


دوسرے وہ لوگ جو ہر سنی سنایی کو بنا کسی تحقیق کے آگے بڑھا دیتے ہیں اور یہ سب موقع پرست ہیں جس طرف کی ہوا چل رہی ہوتی ہے یہ اسی طرف ہوتے ہیں مگر یہ ہوتے بہت خطرناک ہیں کیونکے ان کے پاس دلیل نہیں ہوتی مگر دھونس خوب جماتے ہیں ان سے آپکو اپنی عزت بچا کر چلنا پڑتا ہے
تیسرے وہ لوگ جو  علم والے ہیں اور جانتے ہیں مگر انکی بات میں اب وزن نہیں رہا کیونکہ انسان ہونے کے ناطے یہ بھی اسی بھیڑ چال میں کبھی کبھی بہہ جاتے ہیں شاید یہ سوچ کر کے پہلے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جایے اور پھر انکو سچ اور حق کی جانب موڑا جایے حالانکہ یہ لوگ حق کے قریب ہوتے ہیں مگر ان کی بات میں اثر ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس تیزی کے ماحول میں کویی انکی نہ تو سنتا ہے اور نہ ہی مانتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ اپنے دماغ کو آرام دیکر اسکو کسی دباو یا شخصیت پرستی کی خول سے باہر نکل کر سوچنے کا موقع نہیں دیتے
میں سمجھتا ہوں کی پاکستان کے دن بدلنے والے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہمیں کویی ایسا رہنما ملے گا جو ہمیں تقسیم کرنے کی بجایے ایک کرے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان وہ لیڈر ہے مگر کویی اور جو ہمارے سامنے ہے مگر ہم اسے جانتے نہیں وہ دن دور نہیں کیونکہ اس مادی دنیا کے سارے بت ایک ایک کر کے پاش پاش ہورہے ہیں اور خود اپنی قبریں کھود رہے ہیں اور ان سب کو بہت ہی جلدی ہے یا یہ لوگ بہت جلدی میں ہیں